Sunday, 14 June 2015

گردشِ ایام

درِ مے خانہ کے پهیلے ہیں سرِ شام سے ہاتهه
کاش اک بار تو مل جائیں مرے جام سے ہاتهه

جب سے برہم ہوے گیسوے مقدر یارو
ہم نے بهی کهینچ لیے گردشِ ایام سے ہاتهه

مثلِ آئنہ وہ تکتا هے ہتهیلی اپنی
اُس نے جس دن سے سجایا هے مرے نام سے هاتهه

شدتِ دردِ جگر کا نہیں احساس مجهے
میرے سینے پہ رکها کس نے یہ آرام سے هاتهه

بے قراری کوئی اس دل کی بڑها دیتا هے
دیکهکر مجهه کو ہلاتا ہے کوئی بام سے هاتهه

جهومتی آتی ہے گنگهور گٹها ساون کی
ایسے عالم میں ہٹاے گا کوئی جام سے هاتهه

اب کسی اور کی جانب نہیں بڑهتے جوہر
تیرے ہاتهوں میں گے جب سے گئے کام سے ہاتهه

No comments:

Post a Comment