مسیحا بن کے ستم کرتے هیں عدو کی طرح
هم اپنی خو بهی بدل دیں گے تیری خو کی طرح
یہ کس مقام پہ احساس کی تپش پہنچی
هواے سرد مجهے لگ رہی ہے لُوکی طرح
وہ گهر جہاں پہ تیرے قہقہوں کی بارش تهی
وہاں سکوت برستا ہے آج ہُو کی طرح
وہ لوگ گردشِ ایام کو بدل دیں گے
رگوں میں وقت کی دوڑیں گے جو لہو کی طرح
هزار کوششیں کی تهیں مرے رفوگر نے
رفو نہ دامنِ دل ہو سکا رفو کی طرح
میری تلاش نہ اُس تک پہنچ سکی ورنہ
وہ اک وجود تو بکهرا تها رنگ و بوُ کی طرح
No comments:
Post a Comment