Sunday, 14 June 2015

مسیحا









مسیحا بن کے ستم کرتے هیں عدو کی طرح
هم اپنی خو بهی بدل دیں گے تیری خو کی طرح

یہ کس مقام پہ احساس کی تپش پہنچی
هواے سرد مجهے لگ رہی ہے لُوکی طرح

وہ گهر جہاں پہ تیرے قہقہوں کی بارش تهی
وہاں سکوت برستا ہے آج ہُو کی طرح

وہ لوگ گردشِ ایام کو بدل دیں گے
رگوں میں وقت کی دوڑیں گے جو لہو کی طرح

هزار کوششیں کی تهیں مرے رفوگر نے
رفو نہ دامنِ دل ہو سکا رفو کی طرح

میری تلاش نہ اُس تک پہنچ سکی ورنہ
وہ اک وجود تو بکهرا تها رنگ و بوُ کی طرح

No comments:

Post a Comment