Tuesday, 30 June 2015

سُکوت


شام آتی هے تو پهر گورِغریباں کی طرف
دفعتا اس کے قدم اُٹهتے ہیں
اپنے آنچل میں لیے پهول اورہاتهوں میں چراخ
جا کے اِک ٹوٹی ہوئ قبر کے پاس
وہ جلاتی ہے چراخ
پهول کو قبر پہ آهستہ سے رکهه دیتی ہے
اورپهر ٹوٹتا ہے گورِغریباں کا سکوت
جب لرزتی ہوئ باہیں اُسکی
اجنبی قبر کو سینے سے لگا لیتی ہیں

No comments:

Post a Comment